مسجد و منبر

ایسا کیوں ہے کہ ہماری باطنی و روحانی زندگی ختم ہوکر ہی رہ گئی ہے۔ ہم روز مساجدوں میں جاتے ہیں نماز پڑھ کر باہر نکلتے ہیں پر وہی کے وہی رہتے ہیں۔ نماز سے حاصل تو کیا ہم صحیح طرح نماز پڑھ بھی نہیں پاتے چاہے ہم عمرعزیز کے کسی بھی حصے میں ہو۔ یہی وجہ تھی کہ خلیفتہ المسلمین حضرت عمر(رضہ) لوگوں کو چابک مارتے تھے جو نمازوں میں غفلت برتتے تھے اورفرماتے تھے کہ لوگوں کو داڑھی میں سفید بال تک آگئے پر افسوس ان کو نماز پڑھنا اب بھی نہیں آئی۔ اور یہی حال اب بھی ہے اس کی جھلک ہمیں اپنی عبادت گاہوں میں اب بھی نظر آتی ہے۔ اپنے تن پر ہم نے خوبصورت کپڑا تو اوڑھ لیا پر من خوبصورت نہ بن سکا۔ سوچنے کا مقام ہے ہر اذان کی آواز تو تین چار میلوں تک سنائی دیتی ہے (جو کہ ایک آدھ میل تک ہونی چاہیے)  پر یہی آواز دل میں نہیں اترتی؛ روح کو کیوں نہیں گرماتی؛ اس کی پکار کو ہم لبیک کیوں نہیں کہتے۔ کاش ہم سب اس بات پر غور کر پائیں خاص طور پر وہ لوگ جو مسجد و منبر پر فائز ہیں۔  جن لوگوں ہماری عبادت گاہوں کا نظم و نسق اپنے ہاتھوں میں لیا ہے۔ آئیں بطور ایک فرد اور جماعت ہم اپنے نفسوں پر قابو پالیں نہ کہ مسجد و منبر پر قابض ہوکر بیٹھ جائیں۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s