چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں     

وہ رات دیرگئےتک یونہی کروٹیں بدلتا رہا اور سوچتا رہا، زندگی جیسےاک تلخی سی بن کررہ گئی تھی، کردہ اورناکردہ گناہوں کی سزا۔ وہ سوچ رہا تھا  وہ شاعرتونہیں تھا پرآج کل وہ نظمیں لکھنےلگا تھا، پرکئی دنوں سےوہ کوئی نظم نہیں لکھ پایا تھا۔ جیسےکوئی وحی سی آنا  بندہوگئی ہو، اس کےذہن میں اچانک ایک جملہ کوندا، ”چلواک بارپھرسےاجنبی بن جائیں ہم دونوں” اب نظم لکھ لیگا، پروہ تھوڑی دیرکےلیےرک گیا، اسےلگا یہ جملہ اس نےپہلےکہیں پڑھاہے، سناہے یا خودہی لکھا ہوگا۔لیکن اب تویہ جملہ اس کا اپنا تھا جلدی سےپرایاکیسےہوگیا اورپرایا تھا توشایدکئی سال پہلےکسی نےچرایا ہوگا۔

کئی سال پہلےیونیورسٹی میں تعلیم کےدوران جام شورو ریلوےاسٹیشن پروہ ٹکٹ لےکرگاؤں کےطرف جانےوالی ٹرین کا انتظارکررہا تھا تواچانک اس کی نظرساحرلدھیانوی کی کتاب، ”تلخیاں” پرپڑگئی تھی۔ وہ  سنگی بینچ سےاٹھ کراب سامنےآگیا تھا اورکسی اجنبی سےکہ رہا تھا، ”کیا میں یہ کتاب دیکھ سکتا ہوں”۔  اس اجنبی چہرےنےاک نظراٹھاکردیکھا اورمسکراکرکہا، ”جی خوب دیکھ لیجیئے”۔ کتاب کےاوراق پلٹنےکےبعداس کی نظراک نظم پرآکےرک گئی تھی۔

”خوبصورت موڑ”

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کی

نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے

نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے

نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے

تمہیں بھی کوئی الجھن روکتی ہے پیش قدمی سے

مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ یہ جلوے پرائے ہیں

مرے ہمراہ بھی رسوائیاں ہیں میرے ماضی کی

تمہارے ساتھ بھی گزری ہوئی راتوں کے سائے ہیں

تعارف روگ بن جائے تو ا س کا بھولنا بہتر

تعلق بوجھ بن جائے تو اس کا توڑنا اچھا

وہ افسانہ جسے انجام تک لانا ناممکن ہو

اسے ایک خوبصورت موڑ دیکر چھوڑنا اچھا

چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں

ساحر لدھیانوی

اسےیادآگیا اس سےپہلےوہ امرتاپریتم کی، ”رسیدی ٹکٹ” پڑھ چکا تھا۔ جس میں امروز اورساحرکی باتیں سورج اورسائےکی طرح چھائی ہوئی تھیں، ساحرجوامرتاپریتم کی تحریروں میں زندہ تھا  پران کی زندگی کاحصہ نہ بن سکا ان کا جیون ساتھی امروزتھا اورساحرکی چاہت  ہمیشھ ان کےسینےمیں اک نشترکی طرح چبھتی رہی اوروہ ہمیشھ کےلئےاک دن اس کےلئےاجنبی بن گیا۔

آج رات وہ بھی کروٹ بدل کرسوچ رہا تھا کاش وہ بھی کوئی، ”خوبصورت موڑ” جیسی نظم لکھ سکے، زندگی کوکوئی خوبصورت موڑدےسکےاورپھرسےاجنبی بن جائے۔۔!!

(رضا گلاب سومرو)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s