” مصیبت زدہ عورت”

کہانی

رضا گلاب سومرو

” مصیبت زدہ عورت”

جب دل میں ویرانی ہوتی ہےتومیں ویرانیوں کی طرف نکل جاتا ہوں۔ تلاش اپنی ہوتی ہےیاکسی اورکی میں اسی جستجومیں بہت دورنکل جاتاہوں۔ کہتےہیں رونےسےانسان پاک ہوجاتاہے۔ آج تمہیں روتےدیکھاایسالگاکہ اک دوشِ محبت دہل گیا۔ ویسےبھی کچھ فاصلےکم نہ تھےجب ہم ملےتھے، وصل کی مسافتیں تب بھی طویل تھیں اورہم تب بھی اکیلےہی تھے۔ تم میرےساتھ تھی یہ محظ اک دہوکاتھاپریہ دہوکامجھےاچھالگتا تھا، اب جب تم جانےلگی ہوتوایسالگتاہےزندگی کی حقیقتیں کتنی کڑوی ہوتی ہیں۔

مجھےاب بھی یادہےسندبادمیں اپنی پہلی اورآخری ملاقات، جب ہم دوراک کونےمیں سنگی بینچ پربیٹھےتھے۔ کتنی پیاری سی کتنی مدہم سی ہواچل رہی تھی اورچاندبھی اس سمےنیلےامبرپرنکل آیاتھا۔ تم بہت کم بول رہی تھی اوربس مجھےتکےجارہی تھی۔ اک عجیب ساخمارتمہاری آنکھوں میں امڈآیاتھا، اک عجیب سانشہ اک عجیب سی کیفیت، مجھےڈرلگ رہاتھاکہ تم کہیں بیہوش نہ ہوجاؤ۔ تم خاموش تھی پرتمہاری آنکھیں تمھاری زندگی کی روئدادسنائےجارہی تھیں۔ وہ بیس بائیس سال جوتم نےجبرمیں گذارےتھےاوروہ عتاب اب بھی کچھ کم نہ ہواتھا۔ ہرنئی صبح تمہاری ذلتیں برداشت کرتے،گالیاں سنتے، جھگڑتےگذرتی تھی۔

شادی کےچندمہینوں کےدوران ہی تم پریہ آشکارہوچکاتھا کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکارہے، وہ  ڈپریشن میں آکرتم سےلڑتاتھا، تمہیں اذیت میں مبتلاکرتاتھا اورتمھارےچھوٹوں بچوں کوبھی مارتاتھا۔ تم نےبڑا عرصہ ان کوڈاکٹروں، دعاکرنےوالوں کےپاس لےلےجاکرعلاج کراتی تھی پرمرض تھا کہ بڑھتاگیا، اب تم اس کےچاربچوں کی ماں تھی اورتم انہیں حرامی کی نسل کھ کربلاتی تھی، شایدغصےمیں۔

تم جس گھرانےمیں پیدا ہوئی تھی وہاں انکارنہیں کیاجاتا، ہاں میں ہاں کرنی ہوتی ہے، والدین کی رضاکےساتھ راضی ہونا ہوتاہے۔ پراب جب زمانہ بیت گیاتوتم اپنی ماں سےلڑتی ہو، شکوہ شکایت کرتی ہوکہ کس مخبوط العقل شخص سےتمہارا بیاہ کرایا اورتم ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہو۔

زندگی کی طویل مصیبتیں جھیل کراب تم تھک چکی تھی، اک بیماری ختم نہیں ہوتی تھی تودوسری شروع ہوجاتی تھی، اب تم اپنےہی امراض کا فائیل ہاتھ میں لےکرہسپتالوں کےچکرکاٹتی تھی، دہکےکھاتی تھی اوراپنےآپ ہی روتی تھی، تمہیں پتہ نہیں تھا زندگی تمہیں جس دہلیزپےلےکےآئی تھی اس کے آگےکیاہوگا۔

تکلیف دہ زندگی  کی اس طویل روئداد اورتھکن کےبعدبھی تم اس رات کتنی خوش تھی کتنی پرمسرت اورکتنی خوبصورت۔ تم صرف مسکراتی تھی اورمیری بےتکی باتوں کوسنتی تھی۔  تم کہتی تھی اب تم بہت خوش ہو، میری باتیں اب تمہارےزخموں پرمرہم کاکام کرتی ہیں۔ اب تم بھی خیالوں میں گم ہوجاتی ہواب تم بھی گنگناتی ہواور محبت کےگیت گاتی ہوپراک خوف سا اب بھی تمہیں ہوتاہےکہ ہم محظ دہوکا تو نہیں ہیں، صرف اک خیال اوروہم تونہیں ہیں۔

میں اس مبارک رات اوررحمت کےان چندلمحوں کواب بھی یادکرکےمحسورہوتاہوں۔ یاد ہےجب چاندآہستہ آہستہ چل کرافق پرہمارےاوپرآکےرک گیاتھا اوراپنی مدہم سی چاندنی چارسوپھیلارہاتھا، تم باربارڈرکی ماری اپنا جارجھٹی آنچل جس پربہت سےرنگبرنگی ستاےجڑےہوئےتھےاپنےچہرےپرلارہی تھی۔ تم شرمیلی سےایسےبیٹھےہوئی تھی جیسےعروسی جوڑےمیں نئی نویلی دلہن گھونگھٹ لئےہوئےمتنرم آنکھوں اورہونٹوں پےحیاکی مسکراہٹ لئےہوئےاپنی نئی زندگی کےنئےخواب سجائےہوئے۔

میں اچانک اپنےخیالوں سےباہرنکل آیاتھاجب تم نےاپنابازوبڑھاکراپناہاتھ میری آنکھوں کےسامنےلاکرجنبش سےہلایاتھااورمجھ سےپوچھاتھا، ”میں کن خیالوں میں گم ہوگیا”

میں نے بناسوچےسمجھےکھ دیاتھا، ” اس مصیبت زدہ عورت کےخیالوں میں جوایک مخبوط العقل شخص کی بیوی ہے، چاربچوں کی ماں ہےجنھیں وہ حرامی کی نسل کھ کرپکارتی ہےاوراب اپنی ہی بیماریوں کی فائیل لئےہوئےہسپتالوں کےچکرکاٹتی ہے اورمجھ پی ہی مرتی ہے”۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

w

Connecting to %s