”وہ تین دن”

کہانی

رضاگلاب سومرو

”وہ تین دن”

وہ گرمی میں شل چلتا جا رہا تھا۔آج اس نےچندفارن کرنسی کےنوٹ تبدیل کرائےتھے، یہ  رہےسہےچندنوٹ ہی بچےتھےاس کےپاس جواب اس کوسنبھال سنبھال کراستعمال کرنےتھے۔اسےیقین تھاکہ وہ  ایک دو مہینےاس تھوڑی سی رقم سےنکال ہی دیگا پرآگےکیا ہوگا، یہی ایک سوال اس کوپریشان کیئےجا رہا تھا، آگےمیرامولاہے، وہ خودسےکہتا اوردہراتا جاتا۔ ایک یہی خیال اس کوجیون کی امیددلاتا تھا۔

وہ بولٹن مارکیٹ سےبیچوں بیچ  گلیوں سےہوتا ہوا  آگےجامع کلاتھ مارکیٹ کی طرف چلتا جا رہا تھا۔ انہیں یادآیا کئی سال پہلےوہ ان ہی سڑکوں سےسول ہسپتال پیدل جاتا تھا جب وہ ایک  این جی او میں جاب کرتا تھا، تنگ گلیاں، ہندؤں کےچھوڑےہوئےپرنےمکانات، ماڑیاں، قریب قریب اردو بازارسب اسےاچھےلگتےتھےماسوائےبےہنگم ٹریفک اورلوگوں کےہجوم۔ وہ اب جامع کلاتھ مارکیٹ کےنزدیک پہنچ چکا تھا ، وہ سوچ رہا تھا وہ کبھی بھی سڑک کے اس پارنہیں گیا تھا جہاں اندرکوئی مسجدتھی یا کسی بزرگ کی مزار۔ سڑک کی اس پارچند گل فروشوں کی چھوٹیں دکانیں بھی تھی اوروہاں سےاندرکی طرف کسی بزرگ کی مزار، وہ ایک گلفروش سےشاپرمیں پھولوں کی پتیاں خریدکراندرداخل ہوگیا، باہرسکیورٹی پرمامورایک شخص نےاس کی جھڑتی لی پھراندرجانےکی اجازت دیدی۔ یہ ایک خوبصورت عمارت تھی مزاراور ساتھ میں مسجد بھی تھی اندراسے بڑی دیگیں بھی دکھائی دیں جو یقیناً لنگرکےلئےاستعمال ہوتی ہوں گی۔

مزارکےاندر کچھ تعمیراتی کام بھی ہورہا تھا۔ مزارکی دیواروں پرقرآن مجید اوراحادیث کےکلمات لکھےہوئےتھے، اندرگنبدکی چھت اللہ تعالٰی کےتمام صفاتی ناموں سے مزین تھی جیسا کہ تقریباً ہرخدا کےولی کی مزارکےگنبدکی چھت اللہ تعالیٰ کےصفاتی ناموں سےآراستہ ہوتی ہیں۔ اس کویادآیا سیوہن شریف حضرت لال شہبازقلندرکی مزاربھی کتنی دلکش تھی اورمقبرےکےاندرچھت خدا ذوالجلال و الاکرام کے ناموں سے تزئین تھی۔ اندر اس بلندسفیدگنبدسےخدا کا ایک نورتھا جوآسمانوں کی وسعتوں سےچھن چھن کراس کےپورےوجودکومہکا رہا تھا۔ رنگ ومستی کی کا سمندرتھا، کیف وسرورکی عجیب سی کیفیت تھی کہ اس کےوجودکوتاروں تارلیئےجا رہی تھی کہ اچانک قلندرکےفقیروں کےبانگ و  بلند نعروں نےاس کےوجودکوجگا دیا۔ علی علی علی علی علی علی یآ علی، نعرےحیدری یآعلی، جئےسخی لال شہبازقلندرسیہوانی لال سدآ جئے۔

خیالات وتصورات کی دنیا اس کوحضرت قطب عالم شاہ بخاری کی مزارسےحضرت قلندرلال شہباز کےروضہ مبارک کےاندرلےآئی تھی، خدا کےولیوں کی شان کتنی نرالی ہے!!

اس نےحضرت قطب عالم شاہ بخاری کی مزارپر فاتح پڑھی اورایک کونےمیں بیٹھ گیا۔ لیکن اس کویاد آگیا جب وہ مزارکی اندرداخل ہورہا تھا تو  ایک بزرگ شخص ایک طرف اکیلے بیٹھےہوئےحمدو صلوات پڑھ رہا تھا،  پڑھ کیا رہا تھا وہ ایک سرمستی کی کیفیت میں، ایک عاشق کی طرح اپنےمحبوب کوراضی کرنےکےلئے، منانےکےلئےمحبت ومنت کی پرسوز صدائیں لگائےجا رہا تھا۔ وہ اچانک کونےسےاٹھا اورباہربابا کےسامنےدوزانوبیٹھ کردعاکےلئےہاتھ پھیلانےلگا۔ بابا جی آنکھیں بندکئےدعائیں مانگ رہا تھا، بابا جی کی جیسےہی آنکھ کھلی تواس نےدعاکےلئےعرض کردی۔ بابا جی مسکرایا پھرآنکھیں بندکئےدعا میں مشغول ہوگیا۔ بابا جی اچانک اٹھا اس کی پیٹھ تھام کےکہا جاؤ تمھارا کام ہوگیا۔ زیادہ دیرنہیں کم از کم تین دن کےاندرتمھیں خوش خبری مل جائےگی۔ اس نے فرط جذبات سے بابا جی کا ہاتھ چوما اور دیکھا کہ کچھ ہی دیرمیں بابا جی وہاں سے گم ہوگیا۔

وہ رات دیرتک لیٹےسوچ رہا تھا۔۔۔۔۔۔کیا یہ بابا جی سچ کہتےہیں۔۔۔۔وہ کشف وکرامات کی دنیا میں کیسےجھانک لیتےہیں۔۔۔۔۔وہ خود بھی تو اسی جہان کا متلاشی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب اس کوان تین دنوں کا انتظارتھا۔۔۔!!

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s